اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق ویٹیرنز ٹوڈے ویبسائٹ نے "کیا سعودی عرب نے یمن پر ایٹم بم گرایا" کے عنوان کے تحت ایک رپورٹ شائع کی ہے جس میں جرمنی کی جانب سے صیہونی حکومت کو ایٹمی آبدوز اور سعودی عرب کو ٹیکٹیکل جوہری ہتھیار فراہم کرنے کے معاہدے پر سے پردہ اٹھایا گیا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس بات کا قوی امکان ہے کہ ریاض نے یہ ہتھیار یمن کے خلاف استعمال کئے ہوں۔ اس رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ پیر کے روز صنعا پر بمباری کے مقام کی مٹی کے نمونوں اور تصاویر سے اس بات کا اندازہ ہوا ہے کہ سعودی عرب نے یہ جارحانہ اقدام یمن کے اسکڈ میزائیلوں کے ایک ذخیرے پر حملے کے بہانے کیا تھا۔ اس ویب سائٹ پر شایع شدہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس موضوع کو آسانی سے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ سعودی عرب نے اس مرکز کے خلاف ایٹمی ہتھیاروں کا استعمال کیا ہے۔
شایع شدہ اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سعودی عرب کے پہلے دھماکے کے بعد ایک سفید رنگ کا بادل نما دھواں اٹھا جو اسکڈ میزائیلوں کا نہیں ہو سکتا کہ جن کا دھواں پیلے اور بھورے رنگ کا ہوتا ہے۔ اس رپورٹ میں اس نکتے کی جانب اشارہ ہوا ہے کہ پیر کے دن صنعا پر ہونے والے حملے کا نشانہ اسکڈ میزائیلوں کا انبار نہیں تھا۔ کیونکہ اس صورت میں پہلے حملے کے بعد میزائیلوں اور ہتھیاروں کے گودام میں مزید دھماکے بھی ہوتے لیکن ایسا واقعہ پیش نہیں آیا۔ اس رپورٹ میں سنہ دو ہزار دو کے ایک واقعے کی جانب بھی اشارہ ہوا ہے جس میں امریکی سابق صدر جارج بش نے دو ہسپانوی جنگی بحری جہازوں کو حکم دیا تھا کہ وہ یمن کو شمالی کوریا کے بنائے گئے اسکڈ میزائیل کی ترسیل میں رکاوٹ نہ بنیں۔ اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جارج بش نے براہ راست اسپین کو حکم دیا تھا کہ وہ اس مسئلے میں پیجھے ہٹ جائے اور شمالی کوریا کے اسکڈ میزائل یمن تک پہنچنے کی اجازت دے کہ جس میں ان کے چچا پرسکوٹ بش اور ان کی کمپنی دلالی کا کام کر رہی تھی-
.......
/169